بارش ہے، ٹھنڈی ہوا ہے اور حسین ہے موسم۔ ۔ ۔

بارش ہے، ٹھنڈی ہوا ہے اور حسین موسم
تم بیٹھے بھیگ رہے ہو وہاں اور یہاں اکیلے ہم
کیوں بضد ہو؟ بار بار بلاتے ہو اپنے پاس
دیکھو بہت قاتل ہے ہوا اور خراب ہے موسم
قطرہ قطرہ بارش کا لگا رہا ہے تن میں آگ
کہیں اس رومانوی موسم میں نہ رنگ جائیں ہم
کہیں یہ مدہوش کر دینے والا موسم نہ بن جائے بہانہ
لپیٹ میں آئےان شرارتی ہواؤں میں خراب نہ ہوجائیں ہم
خاموش کیوں ہو گئے؟ کچھ تو بات کرو اب
مدہوشی میں نہ مل جائیں آنکھیں کہیں اور نہ گم ہو جائیں ہم
نا ہو ختم شرم و حیا، نا گریں اپنی ہی نظروں میں ہم
سنو خیامٓ! فون بند کرو، اپنے اپنے گھر ہی سو جائیں ہم

آج کا قاضی ہے اُلجھا ہوا بہت۔ ۔ ۔

آج کا قاضی ہے اُلجھا ہوا بہت
کر پانا اسکو انصاف ہے مشکل بہت
محرم کے پاس نہیں دلائل بے گناہی کے
مجرم کے پاس بچ نکلنے کے ہیں ثبوت بہت
بھری پڑی ہے دنیا بے مثال اداکاروں سے
اپنی اصلیت چُھپانے میں ماہر ہے ہر کوئی بہت
قانون دان کیا کیا بنائے روکنے کے طریقے
چور چوری کر جانے میں آگے ہے بہت
قیمت نہیں اتنی کسی کی ایمانداری کی
خریدارانِ ایمان کے پاس ہے سرمایہ بہت
تم کیسے کر پاؤ گے مجرموں میں محرموں کا انتخاب؟
خیامٓ! اس منصبِ انصاف پر ہارے ہیں عادل بہت۔ ۔ ۔