ہر روز سو سو بار مرتا ہوں ۔ ۔ ۔

لوگوں کی عنایت کے بعد
چُبھتے لفظوں کی سماعت کے بعد

تیکھی نظروں کے وار کے بعد
دوستوں کے منافقانہ پیار کے بعد

اک تاریک دن ڈھلنے کے بعد
اک تاریک شام گزرنے کے بعد

امیدِ نو ٹوٹنے کے بعد
پھر تاریک دن میں اُٹھنے کے بعد

دنیا کے مکر وفریب کے
اپنی انتہا تک پہنچنے کے بعد

جہاں کا اپنے شامیانوں میں
پرسکوں محوِ نیند ہو جانے کے بعد

اندھیری تنہا رات میں خدا کے حضور
میرا سر بسجود ہو جانے کے بعد

اک دردِدل اٹھتا ہے
پھر اشکوں کا ساغر بہتا ہے

یہ زخمی دل سب کو پھر
پُر زور پکار کر کہتا ہے

ہاں میں بھی اک انسان ہوں
میری برداشت کی بھی اک حد ہے

اک اپنے کے جو مرنے پر
تم اتنا واویلا کرتے ہو

مسلسل تمہارے ظلم ڈھانے سے خیامٓ

میں تو ہر روز سو سو بار مرتا ہوں