دشتِ محبت کی پیاس ۔ ۔ ۔

کچھ اس طرح بدلی ریت فراقِ یار کے بعد
عجب ہی موسمِ دل کی حالت بدلتی رہی

مٹ گئی پیاس زمین کی ہر بارش کے کے بعد
تپشِ ہجر بڑھتی رہی، جب جب برسات ہوتی رہی

رنگا رنگ پھول کھلے آغازِ بہار کے بعد
مگر خزاں گلشنِ دل میں طول پکڑتی رہی

دہکتا صحرا بھی سیراب ہوا ساون کے بعد
دشتِ محبت کی پیاس مگر بڑہتی رہی

بے حس سے ہو گئے موسموں سے ہم تیرے جانے کے بعد
نا جانے کب خیامٓ، گرمی جاتی رہی، سردی آتی رہی ۔ ۔ ۔

کچھ کلام تو کر۔ ۔ ۔

کچھ کلام تو کر چاہے برساتِ الزام ہی کر
کچھ کھیل تو کھیل    چاہے فریب ہی کر

سرے محفل چھیڑ بات ہمارے عشق کی
تعریف  نہ   سہی،    کوئی طنز     ہی کر

نا جان لے ہمارے دشمنوں کی، جلا ہی دے
نا مداح بن، سامنے انکے میرا نام ادا ہی کر

نہ    مانگ    ہمیں    ہاتھ     پھیلا   کر خدا سے
چھپ کر کسی کونے میں، عشق کی فریاد ہی کر

نا   بجا    ہمارے    پیار    کی     پیاس       ظالم
کسی پیاسے پرندے کی خاطر پانی رکھ دیا ہی کر

نا سن میری گذارشیں، نا کر پوری التجا خیامٓ
کوئی اپنی حسرت،  کوئی خواہش بیان ہی کر

بارش ہے، ٹھنڈی ہوا ہے اور حسین ہے موسم۔ ۔ ۔

بارش ہے، ٹھنڈی ہوا ہے اور حسین موسم
تم بیٹھے بھیگ رہے ہو وہاں اور یہاں اکیلے ہم
کیوں بضد ہو؟ بار بار بلاتے ہو اپنے پاس
دیکھو بہت قاتل ہے ہوا اور خراب ہے موسم
قطرہ قطرہ بارش کا لگا رہا ہے تن میں آگ
کہیں اس رومانوی موسم میں نہ رنگ جائیں ہم
کہیں یہ مدہوش کر دینے والا موسم نہ بن جائے بہانہ
لپیٹ میں آئےان شرارتی ہواؤں میں خراب نہ ہوجائیں ہم
خاموش کیوں ہو گئے؟ کچھ تو بات کرو اب
مدہوشی میں نہ مل جائیں آنکھیں کہیں اور نہ گم ہو جائیں ہم
نا ہو ختم شرم و حیا، نا گریں اپنی ہی نظروں میں ہم
سنو خیامٓ! فون بند کرو، اپنے اپنے گھر ہی سو جائیں ہم